Monday, November 2, 2009




راولپنڈی میں خودکش بم حملے میں 25 ہلاک

راولپنڈی کینٹ کے علاقے میں شالیمار پلازہ کی کار پارکنگ میں پیر کی صبح ہونے والے خود کش بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم ازکم 25 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخیموں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا ۔

شالیمار پلازہ میں ایک بینک بھی واقع ہےجہاں حملے کے وقت بڑی تعداد میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین تنخواہوں اور پینش کے حصول کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے ۔

راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر اسلم ترین ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں آٹھ کی حالت تشویشنا ک ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سےپارکنگ میں کھڑی کئی گاڑیاںتباہ ہوگئیںجبکہ اس کی شدت سے اردگرد کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نےفوری طور پر علاقے کومکمل طور پر سیل کر کے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

جس جگہ بم دھماکا ہواوہ پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹرکے قریب واقع ہے جہاں جہاں گزشتہ میں مشتبہ طالبان شدت پسندوں نے حملہ کر کہ بڑی تعداد میں سیکورٹی اہکاروں اور سویلین سٹاف کہ یرغمال بنا لیا تھا جنہں بعد میں رہا کروالیا گیا۔ اس کارروائی میں نو حملہ اور اور ایک درجن سے زائد فوجی مارے گئے تھے۔

ملک میں ہونے والے پہ در پہ بم حملوں کے بعد وفاقی دارلحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں حالیہ دنوں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اکتوبر کا مہینہ ملک میں سب سے ہلاک خیز ثابت ہوا جس میں ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے بم حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ تشدد کی اس لہرمیں اضافہ ایک ایسے وقت ہوا جب پاکستانی فوج عسکریت پسندوں کے خلاف جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں مصروف ہے

طالبان کمانڈروں کی گرفتار ی پر نقد انعامات کا اعلان

حکومت پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان کے مفرورسربراہ حکیم اللہ محسود سمیت تنطیم سے وابستہ19شدت پسندکمانڈروں کو زندہ یا مردہ پکڑنے والے یا ان کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے مجموعی طور پر 42 کروڑ روپے کے نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔

پیر کومقامی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک سرکاری اشتہار میں ان ” مطلوب فسادیوں“ کی تصاویر کے ساتھ درج تحریر کے مطابق ان ”دہشت گردوں کی آئے دن خونی کارروائیوں کی وجہ سے محسود قوم اورقریبی علاقوں کے بے گناہ مسلمان موت کی وادی میں جار رہے ہیں۔ ان سنگدل اور خدا کے خوف سے عاری لوگوں کی مذموم اور ظالمانہ حرکات نہ صرف محسودقوم بلکہ تما م قبائل کی بدنامی کا سبب بن رہی ہیں۔ ان کی ظالمانہ حرکات کی وجہ سے پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی رسوائی بھی ہو رہی ہے۔ “

حکومت نے حکیم اللہ محسود ، جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود گروپ کے سربراہ ولی الرحمن محسوداور خودکش بمباروں کو تربیت دینے کے ماہر اور کوٹکئی کے کمانڈر قاری حسین محسودکے سروں قیمت پانچ پانچ کروڑ روپے جبکہ تحریک طالبان کے ترجمان اعظم طارق سمیت گیارہ دیگر مفرور کمانڈروں کے سروں کی قیمت دو دو کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ پانچ دوسرے شدت پسندکمانڈروں کی گرفتار میں مدد دینے والوں کو ایک ایک روپے نقد انعام دیا جائے گا۔

پاکستانی فوج نے تحریک طالبان کی قیادت اور دہشت گردی کی تربیت گاہوں کے خاتمے کے لیے ”راہ نجات“ کے نام سے 17 اکتوبر سے ایک بھر پور زمینی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور ابتک حکام نے تین سو سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے اور طالبان کے اہم مرکز پر کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 30 فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے لیکن آزاد ذرائع سے لڑائی میں ہونے والے جانی نقصانات کی تصدیق تقریباََ ناممکن ہے۔





Sunday, November 1, 2009
















انسداد دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے کا عزم

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہفتے کے روز پشاور میں اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی ۔ اُنھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ فوجی کارروائی کسی مسئلے کامستقل حل نہیں اور اُن کے بقول آپریشن کے ساتھ ساتھ لوگو ں کے معاشی مسائل اور اقتصادی مسائل کا حل ہی دیر پا امن کے لیے ضروری ہیں ۔

جنوبی وزیر ستان سے بے دخل ہونے والے خاندانوں کے بارے میں وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ان لوگوں کو بھی اُسی طرح امداد مہیا کی جائے گی جس طر ح مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کو امداد دی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ تمام قبائل بشمول جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کے لوگ پرامن اور محب وطن ہیں تاہم اُن کے بقول غیر ملکی عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں