Wednesday, November 4, 2009

Monday, November 2, 2009

: بابو صابو انٹرچینج ناکہ پر دو حملہ آوروں نے خود کو اڑا لیا‘ 10 اہلکاروں سمیت 28 زخمیـ

لاہور صوبائی دارالحکومت میں داخلے میں ناکامی پر موٹروے بابو صابو انٹرچینج پر دو خودکش حملہ آوروں نے پولیس ناکے پر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ دس پولیس اہلکاروں اور ایک خاتون سمیت 28 افراد زخمی ہو گئے اور 6 کاروں سمیت 14 گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق شام 6 بجکر 53 منٹ پر موٹروے بابو صابو انٹرچینج پر قائم پولیس کے خصوصی ناکے نے سفید رنگ کی کار کو روکا تو ڈرائیور نے کار روکنے کی بجائے فرار ہونے کی کوشش کی۔ کار سوار دونوں افراد نے ایک لوہے کے بیریئر کو عبور کر لیا جبکہ دوسرے بیریئر پر پولیس اہلکاروں نے کار کو روک لیا۔ اس موقع پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا 18,17 سالہ نوجوان نیچے اترا اور پھر دوبارہ دوڑ کر کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا جس کے بعد کار سودار دونوں نوجوانوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ میلوں دور اس کی آواز سنائی دی گئی۔ دھماکے کی وجہ سے دونوں حملہ آوروں کے جسموں کے پرخچے اڑ گئے جبکہ دھماکے کی زد میں آ کر دس پولیس اہلکاروں اور ایک خاتون سمیت 28 افراد زخمی ہو گئے۔ سڑک پر ہر طرف خون، انسانی گوشت کے لوتھڑے، گاڑیوںکے شیشے، ڈیزل اور انجن آئل پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو۔1122، ایدھی، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس، بم ڈسپوزل سکواڈ ٹیمیں و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے دھماکے والی جگہ سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ سکواڈ نے کار سے 35 کلو دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا۔ موقع سے ایک خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا جوکہ کئی فٹ دور پڑا تھا جبکہ تین ٹانگیں بھی ملیں۔ زخمیوں میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر غلام سرور، کانسٹیبل محمد لطیف، کانسٹیبل نفیس، کانسٹیبل امجد حسین، کانسٹیبل عمران علی، کانسٹیبل نذیر، خاتون عنایت بی بی، ظفر، ندیم، امین، نوید، سلیم، گل خان، ظفر خان، تیمور ناصر، لیاقت، سعید اور زمان اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ ہسپتالوں میں کانسٹیبل محمد لطیف سمیت متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ سول ڈیفنس کے آفیسر مظہر حسین کے مطابق خودکش حملے میں استعمال ہونیوالا بارود 8 سے 10 کلو تھا جبکہ گاڑی سے ملنے والے دودھ کے دو کینوں میں سے ایک کین میں 35 کلو دھماکہ خیز مواد اور ایک میں گھاس تھی۔ گاڑی سے ایک بوری گندم کی بھی ملی ہے۔ عینی شاہدین تاجدین اور محمد اطہر نے بتایا کہ دھماکے سے ہمارے کان بند ہو گئے۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا۔ پولیس نے بوکھلا کر فائرنگ شروع کر دی جس کے باعث ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ موقع پر موجود سی سی پی او لاہور پرویز راٹھور نے بتایا کہ دھماکے سے سات افراد شدید زخمی ہوئے جن میں ایک ٹریفک وارڈن، دو پولیس اہلکار اور چار سویلین شامل ہیں۔ ایس ایس پی آپریشن شفیق گجر نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی جان پر کھیل کر لاہور کے شہریوں کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ شیراکوٹ پولیس نے بابوصابو انٹرچینج پر ہونیوالے خودکش دھماکے پر نامعلوم خودکش حملہ آوروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ انسداد دہشت گردی، ہائی ایکسپلوزو ایکٹ، اقدام قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے شہر بھر میں رات گئے سرچ آپریشن شروع کرکے درجنوں پٹھانوں اور افغانیوں کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی۔ پولیس نے رات گئے تک گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب طارق سلیم ڈوگر خودکش حملہ کی اطلاع ملتے ہی راولپنڈی پہنچ گئے اور مقامی پولیس افسران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جبکہ آئی جی نے رات کو لاہور خودکش حملے میں زخمی ہونیوالے پولیس ملازمین کی بھی میوہسپتال میں عیادت کی۔ آئی جی نے راولپنڈی پولیس کے افسران کے خصوصی اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے راولپنڈی پولیس اور سی آئی ڈی کے افسران پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف نے بابو صابو انٹرچینج پر خودکش دھماکہ کی مذمت کی ہے۔

طالبان کمانڈروں کی گرفتار ی پر نقد انعامات کا اعلان

حکومت پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان کے مفرورسربراہ حکیم اللہ محسود سمیت تنطیم سے وابستہ19شدت پسندکمانڈروں کو زندہ یا مردہ پکڑنے والے یا ان کے بارے میں مستند معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے مجموعی طور پر 42 کروڑ روپے کے نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔

پیر کومقامی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک سرکاری اشتہار میں ان ” مطلوب فسادیوں“ کی تصاویر کے ساتھ درج تحریر کے مطابق ان ”دہشت گردوں کی آئے دن خونی کارروائیوں کی وجہ سے محسود قوم اورقریبی علاقوں کے بے گناہ مسلمان موت کی وادی میں جار رہے ہیں۔ ان سنگدل اور خدا کے خوف سے عاری لوگوں کی مذموم اور ظالمانہ حرکات نہ صرف محسودقوم بلکہ تما م قبائل کی بدنامی کا سبب بن رہی ہیں۔ ان کی ظالمانہ حرکات کی وجہ سے پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی رسوائی بھی ہو رہی ہے۔ “

حکومت نے حکیم اللہ محسود ، جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود گروپ کے سربراہ ولی الرحمن محسوداور خودکش بمباروں کو تربیت دینے کے ماہر اور کوٹکئی کے کمانڈر قاری حسین محسودکے سروں قیمت پانچ پانچ کروڑ روپے جبکہ تحریک طالبان کے ترجمان اعظم طارق سمیت گیارہ دیگر مفرور کمانڈروں کے سروں کی قیمت دو دو کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ پانچ دوسرے شدت پسندکمانڈروں کی گرفتار میں مدد دینے والوں کو ایک ایک روپے نقد انعام دیا جائے گا۔

پاکستانی فوج نے تحریک طالبان کی قیادت اور دہشت گردی کی تربیت گاہوں کے خاتمے کے لیے ”راہ نجات“ کے نام سے 17 اکتوبر سے ایک بھر پور زمینی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور ابتک حکام نے تین سو سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے اور طالبان کے اہم مرکز پر کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 30 فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے لیکن آزاد ذرائع سے لڑائی میں ہونے والے جانی نقصانات کی تصدیق تقریباََ ناممکن ہے۔









پیر کی شام لاہور میں موٹر وے کے بابو صابو انٹرچینج پر پولیس کے ناکے پر ایک مشتبہ گاڑی کو معمول کی چیکنگ کے لیے جب روکا گیا تو اس میں موجود دو عسکریت پسندوں نے اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا۔

پولیس کے مطابق اس دھماکے سے دونوں عسکریت پسند موقعے پر ہلاک ہو گئے جب کہ پولیس اہل کاروں سمیت 15 افراد زخمی ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے تین افراد شدید زخمی ہیں۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق سلیم ڈوگر نے اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے جوانوں نے شہر میں کسی بڑی ممکنہ واردات کو وقوع پذیر ہونے سے روک کر فرض شناسی کا جو ثبوت دیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قربانیاں وطن کے لیے ہیں اور ہم مسلح افواج کے ساتھ ساتھ پولیس بھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پولیس کے مطابق حملے میں سفید رنگ کی مہران گاڑی استعمال کی گئی تھی، جس کی انھیں پہلے ہی سے اطلاع تھی۔
لاہور میں پولیس پر متعدد بار شدت پسند حملے کر چکے ہیں
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بابو صابو موٹر وے انٹر چینج کے نزدیک پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں دو حملہ آور ہلاک اور تین پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
زخمیوں میں سے دو پولیس اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق سوموار کی شب خودکش حملہ اس وقت ہوا جب شیرا کوٹ کے علاقے میں بابو صابو موٹر وے انٹر چینج کے قریب واقع چیک پوسٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے لاہور شہر میں داخل ہونے والی ایک مشتبہ گاڑی کو روکا ۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے گاڑی کو روکنے پر کار میں موجود دو خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے ناکے پر موجود تین پولیس اہلکار اور چار شہری زخمی ہو گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے گاڑی کو روکنے پر کار میں موجود دو خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ناکے پر موجود تین پولیس اہلکار اور چار شہری زخمی ہو گئے۔
دھماکے بعد پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
لاہور کے سی سی پی او پرویز راٹھور نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ دھماکے میں دو پولیس اہلکار اور ایک ٹریفک وارڈن زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چار عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ان کے بقول گاڑی میں دو خودکش حملہ آور سوار تھے اور تباہ ہونے والی گاڑی سے تین ٹانگیں اور ایک سر سمیت دیگر جسم کے حصے ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ دھماکے کے بعد چار افراد فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے ہیں۔سی سی پی او پرویز راٹھور کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکے گا کہ گاڑی کہاں سے آرہی تھی۔
آئی جی پولیس طارق سلیم ڈوگر نے ہسپتال جاکر زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا مورال بلند ہے اور چیگنگ مزید سخت کردی جائے گی۔

این آر او پر پیپلز پارٹی کی مشکلات

حکمران پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کی پارلیمان سے منظوری کی کوششوں کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بظاہر متحد ہو گئی ہیں جب کہ حکمران پیپلزپارٹی کی ایک بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس متنازع صدارتی حکم نامے پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس کی منظور ی کے حق میں ووٹ نہ دینے کا عندیہ دیا ہے جس سے بظاہر حکمران جماعت کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے پیر کو میڈیاسے بات چیت میں کہا کہ اُن کی جماعت این آراوسے استفادہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایک دوسری اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے بتایا ہے کہ اُن کی جماعت این آرا و کے معاملے پر ملکی حالات کو مدنظر رکھ کرجلد فیصلہ کرے گی ۔

اسلام آباد میں پیر کومسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں کے بعد ان جماعتوں کے قائدین نے الگ الگ پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر اوجیساقانون بنانا پاکستان کے جمہوری اداروں کو داغ دارکرنے کے مترادف ہے۔ نواز شریف نے کہاکہ ایسی قانون سازی سے” صدر آصف علی زرداری کو پرہیز کرنا چاہیے“ کیوں کہ مسلم لیگ (ن) ایسے کسی اقدام پر سمجھوتا نہیں کرے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کی جماعت این آر او پر کوئی درمیانی راستہ اختیارکرنے کی بجائے اس کی ”ڈٹ کر مخالفت“ کرے گی ”حکومت سے درخواست ہے کہ این آر او کو پارلیمان میں پیش کرنے سے گریز کر ے اور جموریت کو امتحان میں نا ڈالے“۔

مسلم لیگ (ن ) کے سربراہ نواز شریف نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ این آر او کے تحت اُن کی سیاسی جماعت کے ارکان کے مقدمات بھی معاف کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ (ق)کے قائدین چودھری شجاعت حسین، پرویز الہی اور سابق صدر فاروق لغاری نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اُن کی جماعت ملکی مفاد اور ایک شخص (صدر زرداری) کو تحفظ دینے کے قانون کی بھر پور مخالفت کرے گی۔

پارلیمان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کے ارکان کی نمائندگی کرنے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کا کہنا ہے کہ فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ این آر او کے خلاف ووٹ دیں گے کیوں کہ اُن کے بقول وہ قومی دولت لوٹنے والوں کو معافی دلوانے میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔

پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کے مطابق این آر او پر تنقید کرنے والوں کو یہ سمجھناچاہیے کہ یہ وہ قانون ہے جس نے قومی مفاہمت کو فروغ دیااور ملک میں دشمنی اور بدلے کی سیاست کا خاتمہ کیا ہے۔ اُنھوں نے پیر کواسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کی ہی بدولت 2008 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سب سے کم الزامات سامنے آئے ہیں اور فوزیہ وہاب کے بقول اس قانون کی شق نمبر تین کی وجہ سے انتخابی عمل میں شامل ریٹرنگ افسروں کو دھاندلی کا موقع ہی نہیں ملا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی 125نشستیں ہیں اور سادہ اکثریت سے این آر او کی منظوری کے لیے اسے ہر صورت میں اپنی ایک بڑی اتحادی جماعت ایم کیوایم کے 26 اراکین کی ضرورت ہوگی

فائل فوٹو

چوہدری نثار علی خان اور چوہدری پرویز الہیٰ اپنی تقاریر کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کرکے چلے گئے

پیر کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی سپیکر فہمیدہ مرزا سے سخت تلخ کلامی بھی ہوئی۔

مسلم لیگ (ن) نے مجوزہ ترمیمی بل پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے موجودہ حالت میں بل منظوری کے لیے پیش کیا تو جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت ابھی اس بارے میں مشاورت کر رہی ہے اور کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے پارلیمان، جمہوری نظام یا ملکی وقار پر کوئی حرف آئے۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے بعد کارروائی شروع ہوئی تو قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ’این آر او بدنام زمانہ آرڈیننس ہے جو فوجی آمر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے جاری کیا۔‘

انہوں نے صدر آصف علی زرداری کا نام لیے بغیر انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی غیر جمہوری قوت کا آلہ کار نہیں بنیں گے مگر تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ قرآن کی قسم اٹھاتے ہیں پھر وعدہ خلافی کرتے ہیں، معاہدے کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہے۔‘

چوہدری نثار علی خان نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ کل تک ججوں کی بحالی کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ ججوں کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان کے مطابق جب عوام سڑکوں پر نکلے تو فیصلہ ہوگیا اور آج بھی وہی حالات ہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ کل تک ججوں کی بحالی کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ ججوں کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان کے مطابق جب عوام سڑکوں پر نکلے تو فیصلہ ہوگیا اور آج بھی وہی حالات ہیں۔

اس دوران مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر پرویز الہیٰ نے جب ’این آر او‘ کی مخالفت میں تقریری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاہ قانون ہے اور وہ منظور نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر حکومتی اراکین نے بھرپور انداز میں ڈیسک بجا کر ان پر طنز کیا کیونکہ جب پرویز مشرف نے سنہ دو ہزار سات میں ’این آر او‘جاری کیا تھا تو اس وقت مسلم لیگ (ق) کی حکومت تھی اور پرویز الہیٰ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔

ایوان میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیاں ’این آر او‘ پر مکمل آہنگی نظر آئی اور ایک دوسرے کو بدعنوان اور آمروں کی پیدا وار قرار دینے والے چوہدری نثار علی خان اور چوہدری پرویز الہیٰ ایک دوسرے کو صاحب صاحب پکارتے رہے۔ وہ اپنی تقاریر کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کرکے چلے گئے۔

چوہدری نثار علی خان نے اپنی تقریر اس مصرعہ پر ختم کی کہ ’اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے۔‘ ان کی تقریر کے دوران اور بعد میں مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی اور دیگر نے’این آر او نامنظور‘ کے زوردار نعرے لگائے۔ جس پر گیلری میں بیٹھی ایک پیپلز پارٹی کی بظاہر حامی خاتون نے مسلم لیگ(ن) کے نعرے لگانے والے اراکین کے خلاف کچھ بات کی تو اراکین نے ہنگامہ کردیا اور سپیکر کی ہدایت پر سکیورٹی کے عملے نے اس خاتون کو باہر بھیج دیا۔

حکومت ابھی اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے اور وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے پارلیمان، جمہوری نظام یا ملکی وقار پر کوئی حرف آئے۔سب کو اعتماد میں لے کر این آر او کے بارے میں فیصلہ کریں گے

وزیر اعظم گیلانی

اپوزیشن کے ساتھ فاٹا کے چند اراکین بھی باہر چلے گئے لیکن فاٹا کے کچھ اراکین نے حکومت کا ساتھ دیا۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ حکومت ابھی اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے اور وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے پارلیمان، جمہوری نظام یا ملکی وقار پر کوئی حرف آئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب کو اعتماد میں لے کر این آر او کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے این آر او کی بھرپور مخالفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت کی ایک بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے این آر او کی مخالفت میں بیان دیا گیا۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے آج صدر آصف علی زرداری کو ان کے بقول التجا کی ہے کہ وہ جمہوری نظام کی خاطر اپنے چند ساتھیوں سمیت قربانی دے دیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے صدر کومستعفیٰ ہونے کے لیے نہیں کہا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے این آر او کی مخالفت کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ملکی سیاست میں ایک بھونچال آگیا ہے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صدر نے اپنی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں بشمول ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں۔