Tuesday, October 27, 2009

Sunday, October 25, 2009









صوبائی وزیر قاتلانہ حملے میں ہلاک

پولیس کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان کو اتوار کی شام نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب گولیا ں مار کر ہلاک کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق صوبائی وزیر شہر میں ایک سکیورٹی ایجنسی کے دفتر کا افتتاح کرنے کے بعد جیسے ہی گاڑی سے اتر کر اپنے گھرداخل ہونے لگے موٹرسائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے ان پر فائر کھول دیا اور وہ موقع پر ہی ہلا ک ہوگئے۔ مقتول صوبائی وزیر نے صوبے میں پیر کے روز سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے شدت پسندوں سے اپیل کی تھی کے وہ معصوم بچوں کو اپنی پرتشد کارروائیوں کا نشانہ نا بنائیں۔

شفیق احمد خان

شفیق احمد خان کا تعلق حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تھا

صوبہ بلوچستان کے وزیرِ تعلیم شفیق احمد خان کو کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کی شام صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان کو ان کے گھر کے سامنے اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے قتل کر دیا جب وہ ایک تقریب سے واپس گھر جا رہے تھے۔

بلوچ لبریشن یونائٹڈ فرنٹ نے صوبائی وزیر کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی وزیر کی ہلاکت کے خلاف صوبہ بھر میں تین روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم کا قتل ایک بزدلانہ عمل ہے اور اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان کا تعلق حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تھا اور ان کا آبائی علاقہ صوبہ سرحد کا ہزارہ ڈویژن تھا لیکن وہ کئی سالوں سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مقیم تھے۔

شفیق احمد حان نے ہلاکت سے چند گھنٹے قبل کہا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے انتظامات بہتر کر لیے گئے ہیں اور سوموار کو صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کو کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر شدت پسندوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معصوم بچوں کے سکولوں کو ٹارگٹ نہ بنائیں کیونکہ وہ خود بھی بچوں کے والد ہونگے۔

خیال رہے کہ شفیق احمد خان بلوچستان کابینہ کے حالیہ ماہ میں ہلاک کیے جانے والے دوسرے رکن ہیں۔ اس سے پہلے بلوچستان کے صوبائی وزیر سردار رستم جمالی کو چند ماہ پہلے کراچی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔



Saturday, October 24, 2009

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے: ڈاکٹر فاروق ستار کا بیان
پاکستان میں ترقی اور خوش حالی اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ وہاں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا
ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ یہ قائدِ اعظم محمدعلی جناح کےنظریے والا ملک ہے یا یہ بیت اللہ محسود کا ملک ہے؟ آج یہ صورتِ حال ہے کہ دہشت گردی کےخطرے کےباعث ملک کے تعلیمی اداروں تک کو بند کرنا پڑا؟
کینیڈا میں سات روزہ دورے پر آئے ہوئے سمندرپار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترقی اور خوش حالی اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ وہاں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ٹورنٹو میں ہفتے کے دِن پاکستان کی کئی تنظیموں کی جانب سے دیے گئے استقبالئے سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف اب جنگ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ حکومت نے یہ عزم کرلیا ہے کہ قائدِ اعظم کے پاکستان کو دہشت گروں سے نجات دلا کر ہی دم لے گی۔اُن کے اپنے الفاظ میں: ‘ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ یہ ملک قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نظریے کا ملک ہے یا یہ ملک بیت اللہ محسود کا ملک ہے کہ آج یہ صورتِ حال ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کے باعث ملک کے تعلیمی اداروں تک کو ہمیں بند کرنا پڑا۔’فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ وزیرستان اور دوسرے علاقوں میں ملٹری آپریشن اُس وقت کیا جب دہشت گردوں نے مسائل کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔اُنھوں نے مزید کہا کہ مسائل کے حل کے لیے حکومت نے معاہدے بھی کیے لیکن دہشت گردوں نے تخریب کاری کا عمل جاری رکھا۔استقبالیہ کے بعد وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے فاروق ستار نے اِس تاثر کو غلط قراردیا کہ کیری لوگر بِل کے معاملے میں کسی نتیجے پر پہنےو بغیر ہی قومی بحث ختم کردی گئی۔اِس ضمن میں اُنھوں نے کہا ‘جو پارلیمان میں بحث ہورہی تھی کیری لوگر بِل پر وہ اچانک ختم نہیں ہوئی۔ اُس میں تمام سیاسی جماعتوں کی سوچ اور فکر اور اُن کی رائے جب سامےح آئی اور شاہ محمود قریشی صاحب اُس رائے کو لے کر عوام کے جذبات کو لے کر امریکہ گئے اوروہاں پر لوگوں نے سیاسی طور پر مسئلے کو حل ہوتے ہوئے دیکھا، قانونی طور پر نہیں۔’
کوٹ کئی پر قبضہ طالبان کے خلاف اہم کامیابی ہے‘‘
ہفتے کے روز اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ اور فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے آبائی گاؤں کوٹ کئی کا کنٹرول سنبھالنا عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک نہایت اہم کامیابی ہے۔وزیراطلاعات کا دعویٰ تھا کہ کوٹ کئی میں حکیم اللہ محسود اور خودکش حملہ آوروں کے سرغنہ قاری حسین کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے اور ان کے مطابق اس گروہ کے ارکان اب پسپائی اختیار کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان سے دہشت گردوں سے بھاگنے کے تمام راستےبندکردیے گئے ہیں جب کہ اس علاقے سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کے لیے فاٹاسیکریٹیریٹ کو اڑھائی ارب روپے دیے گئے ہیں۔میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی وزیرستان آپریشن میں 21 شدت پسند اور تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق بہت سے جنگجو اب طالبان قیادت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اورسوات کی طرح جنوبی وزیرستان سے بھی شدت پسند اپنے حلیے تبدیل کرکے فرار ہورہے ہیں
جنوبی وزیرستا ن میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے آبائی گاؤں کوٹکئی پر پاکستانی فوج کے قبضے کومبصرین سکیورٹی فورسز کی ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستا ن سے تعلق رکھنے والے سابق فوجی افسر اورتجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام وزیر کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ حکیم اللہ محسود اور طالبان کے ایک اہم کمانڈر قاری حسین کے آبائی گاؤں کی وجہ سے عسکریت پسندوں کا گڑھ تھا ۔
انعام وزیرکا کہنا ہے کہ کوٹکئی پر قبضے کے بعد فوج کوطالبان جنگجوؤں کے زیر اثر دو دوسرے اہم علاقوں مکین اور لدھا کی طرف بھی پیش قدمی میں آسانی ہو گی۔
تجزیہ نگار پروفیسر رفعت حسین بھی کوٹکئی پر فوج کے قبضے کو اہم قرار دیتے ہیں اور اُن کا ماننا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف برسرپیکار فوجیوں کی کوشش ہو گی کہ برفبار ی شروع ہونے سے قبل ہی زیادہ سے زیادہ علاقے کو قبضے میں لے پوزیشن مستحکم کر لی جائے۔
رفعت حسین کا کہنا ہے کہ علاقے میں پیش قدمی کے ساتھ ساتھ فوج کو یہ بات بھی مد نظر رکھنا ہو گی کہ آپریشن کے دوران عسکریت پسندجنوبی وزیرستان سے فرار نہ ہونے پائیں کیوں کہ اُن کے بقول اگرجنگجو زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہو ئے تو یہ سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی ناکامی ہو گی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے شرکت کی تھی ، یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اُس میں ناکامی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی